ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / مرکزی حکومت کے طلاق ثلاثہ بل میں کئی قانونی خامیاں : اے پی سی آر نے کی بل کی سخت مخالفت

مرکزی حکومت کے طلاق ثلاثہ بل میں کئی قانونی خامیاں : اے پی سی آر نے کی بل کی سخت مخالفت

Thu, 28 Dec 2017 20:13:52    S.O. News Service

 بنگلورو:28/ دسمبر(ایس اؤنیوز) دستور میں مذہب اور عقیدے کی ضمانت فراہم کرتےہوئے ملک کے ہرایک شہری کو  آزادی دی گئی ہے، ملک کے شہری اپنی سوچ سمجھ اور شعور کے مطابق کسی بھی مذہب پرعمل کرنے میں آزاد ہیں، مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مذہب کے معاملے میں مداخلت کا حق نہیں ہے ، ایسے میں مرکزی حکومت  کی طرف سے  طلاق ثلاثہ کے بہانے مسلمانوں کے مذہب میں مداخلت کرتے ہوئے ان کے عائلی قوانین پر جس طرح اچانک حملہ کررہی ہے وہ دستور مخالف ہے۔ اس بات کا الزام عائد کرتے ہوئے   اسوسی ایشن فور پروٹیکشن آف سیول رائٹس (اے پی سی آر ) کرناٹک نے پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے بل کی سخت مخالفت کی ہے اور  بیان جاری کرتے ہوئے کہا  ہے کہ یہ شہری بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اے پی سی آر کے عہدیداران کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے بل میں کئی قانونی خامیاں ہیں، اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو چھپانے کے لئے مرکزی حکومت عوامی رخ کو منتقل کرنے کےلئے جلد بازی میں اس بل  کو پیش کیا ہے جب کہ اس پر متعلقہ مذہب کے ماہرین سے سنجیدہ گفتگو کرنے کی ضرورت تھی  مگر حکومت نے کسی سے بھی مشورہ کئے بغیر اور کسی بھی طرح کی غور وفکر کئے بغیر اس  بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے، جو بالکل درست نہیں ہے۔ اے پی سی آر کے ریاستی سکریٹری ایڈوکیٹ نیا زاحمد نے بتایا کہ   مرکزی حکومت اپنے اس  بل کے ذریعے تین طلاق پر تین سال جیل کی سزا مقرر کرنے جارہی ہے غورکرنے کی بات یہ ہے کہ طلاق ایک عائلی معاملہ ہے جب کہ اس پر جو سزا مقرر کی جارہی ہے اس کا شمار  کریمنل معاملات میں شمار ہوتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ سماجی اور خانگی معاملے کو فوجداری بنانا کہاں تک صحیح ہوسکتاہے۔

خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ نے تین طلاق کو مانا ہی نہیں ہے ، اپنے فیصلے کے ذریعے اس کو بے اثر کردیا ہے اس پر زبردستی بل کے ذریعے سزا کو طئے کرنا ناانصافی کی بات ہوگی۔ بل پر غور کرنے سے پتہ چلتاہے کہ بظاہر مسلم خواتین کی بھلائی کا ڈھونگ رچایا جارہاہے مگر اندرون بل کے ذریعے مسلم عورتوں پر ظلم کی تیار ی ہورہی ہے۔ یعنی طلاق کے بعد شوہر تو جیل جائے گا تو بیو ی بچوں کا کیا ہوگا،ان کی دیکھ بھال کون کرے گا، کیا وہ بے یارو مدد گار چھوڑ دئیے جائیں گے، شوہر جیل کی سزا کے بعد لوٹے گا تو کیا پھر دونوں میاں بیوی بنے رہیں گے ، کیا وہ پرسکون زندگی گزار سکیں گے ایسے کئی سوالات ہیں جن سے واضح ہوتاہے کہ یہاں مسلم عورت کو ظلم کی بھٹی میں دھکیلا جارہاہے ۔ اے پی سی آر مجوزہ بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے قانونی ماہرین سے درخواست کرتا ہے کہ وہ بل کی جو قانونی خامیاں ہیں اس کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے مسلم خواتین  کے ساتھ انصاف کریں۔


Share: